ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو میں 10؍دن کے دوران 239؍نئے کورونا کیس، 16؍اموات

بنگلورو میں 10؍دن کے دوران 239؍نئے کورونا کیس، 16؍اموات

Sun, 14 Jun 2020 13:11:24    S.O. News Service

بنگلورو، 14؍ جون (ایس او نیوز) گزشتہ 10؍ دنوں کے دوران بنگلورو میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طورپر 8؍جون کو لاک ڈاؤن میں تقریباً پوری نرمی کے نتیجے میں کورونا وائرس کے واقعات اور بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

محکمہ صحت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 دونوں کے دوران بنگلورو میں 239 ؍ افراد کورونا پوزیٹیو پائے گئے ہیں اور 16 لوگوں کی موت واقع ہوئے ہے۔ کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کے اعتبار سے بنگلورو میں کنٹین منٹ زونس کی تعداد بھی بڑھ کر اب 90 کے قریب ہوچکی ہے۔محکمہ صحت ، پولیس ، بی بی ایم پی اور دیگر ایجنسیوں کی طرف سے اٹھا ئے جانے والے تمام احتیاطی اقدامات بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ سمجھا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس تعداد کو روکنے میں ناکام رہنے کے بعد اب مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس ذمہ داری سے ہاتھ دھولینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں ۔ اگر اس طرح کا کوئی فیصلہ لے لیا گیا تو آنے والے دنوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کا علاج سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آسکتا ہے۔

بنگلورو میں 10 دن کے دوران کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد جہاں 239 ہے وہیں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد محض 74 ہے جو کہ پریشانی کا سبب ہے۔لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعداچانک کورونا وائرس کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ کو ایک سنگین رجحان قرار دیتے ہوئے شیواجی نگر کے رکن اسمبلی رضوان ارشد نے کہا کہ لوگوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کو اگر یہ سمجھ لیا کہ کورونا وائرس ختم ہوچکا ہے تو یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہوگی اور اس بھول کی قیمت نہ صرف لاپروائی کرنے والے لوگوں کو بلکہ ہر اس شہری کو چکانی پڑے گی جو ان کے ربط میں آجائے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کو روکنے میں بری طرح ناکام ریاستی اور مرکزی حکومت کی طرف سے اسی بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری سے ہاتھ دھولے گی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کا علاج کروانا اسپتال میں کافی مہنگا ہوسکتا ہے اب تک حکومت نے اپنے خرچ سے لوگوں کا علاج کروایا لیکن اب بڑھتے ہوئے اخراجات کو دیکھتے ہوئے علاج کا خرچ لوگوں پر ہی ڈال دینے کے لئے حکومت کی طرف سے تیاری کی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں غریب اور متوسط طبقہ سے آنے والے افراد اگر کورونا سے متاثر ہوجائیں تو ان کاعلاج مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوجائے گا۔ اس لئے رضوان ارشد نے زور دیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں، لاک ڈاؤن نہ ہونے کے باوجود غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں ، ماسک پہننے کو اپنا معمول بنائیں۔


Share: